‘Umar Studio presents a new statement from the Teḥrīk-ī-Ṭālibān Pākistān: "We Will Study the Government’s Announcement of the Formation of a Negotiating Team"

Lnqj1

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مذاکرات کے حوالے سے تحریک طالبان پاکستان کا موقف پاکستان کے مسلمانوں پر واضح ہو چکا ہےکہ ہم سنجیدہ اور بامقصد مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں، ماضی میں آنے والے قاصدوں کا احترام کیا ہے اور ان کو مثبت جواب دیے ہیں،اس پروپیگنڈے میں کوئی حقیقت نہیں ہے کہ امیرمحترم مولانا فضل اللہ حفظہ اللہ مذاکرات کے حق میں نہیں ہیں ،تحریک طالبان کے تمام حلقے امیر محترم کی امارت و قیادت میں متحد اور یکجا ہیں اور تمام امور میں انکے فیصلوں کی مکمل اطاعت کرتے ہیں۔

اگر مذاکرات کے بامعنی اصطلاح کو الزامات اور دھوکے کی سیاست سے پاک رکھا جائے تو امن کا قیام زیادہ مشکل نہیں ہے،اس بابت وانا جنوبی وزیرستان اور سوات کے معاہدوں کو مد نظر رکھنا ضروری ہے،تاکہ ان تمام اسباب کے خاتمے کی ٹھوس بنیادوں پر مخلصانہ کوشش کیجائے جن کی بنا پر حکومت اور طالبان کے درمیان معاہدوں کو ناکام بنا یا جاتا رہا ہے۔

گیارہ سال سے قبائل کے مظلوم مسلمان امریکہ کی ایما پر شروع کی جانے والی جنگ میں پس رہے ہیں ، لال مسجد ،سوات ووزیرستان سمیت اسلام سے محبت رکھنے والے مسلمانوں پرہر جگہ فوج کشی کی گئی،امریکی خوشنودی توحاصل ہونے سے رہی اپنا سب کچھ ضرورداو پر لگ گیا ،کشمیر اور دہلی کی فتح کے ضامن غیور قبائل اپنے ہی ملک کے ظالم حکمرانوں کے خلاف لڑنے پر مجبور ہوئے۔

تحریک طالبان پاکستان نے ہمیشہ اس مسئلے کو مذاکرات سے حل کرنے کی کوشش کی ، لیکن مشرف اور زرداری کی حکومت نے مذاکرات کو ہمیشہ جنگی ہتھیار کے طور پر ہی استعمال کیا جسکی وجہ سے مذاکرات ناکام ہوئے اور جنگ کی راہ ہی ہموار ہوئی،لہذا ایسے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے جو اعتماد اور اخلاص کا ماحول فراہم کرے۔

حکومت کے فیصلے کو سنجیدہ لیا ہے،تحریک طالبان کی مرکزی شوری حکومت کے فیصلے کا باریک بینی سے جائزہ لیکر چند دنوں میں اپنے موقف سے پاکستان کے مسلمانوں کو آگاہ کرے گی۔

شاہد اللہ شاہد
مرکزی ترجمان تحریک طالبان پاکستان

———-


04/04/1435
05/02/2014

الله أكبر

{وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لا يَعْلَمُونَ}

=&0=&=&1=&=&2=&=&3=&=&4=&=&5=&=&6=&=&7=&=&8=&

__________

To inquire about a translation for this statement for a fee email: [email protected]

‘Umar Studio presents a new statement from the Teḥrīk-ī-Ṭālibān Pākistān: "Not the Mujāhidīn, But the Government Policy of Deception Through the Exploitation of the Negotiations for an Extension of the American War in Parts of the Country"

Lnqj1

بسم اللہ الرحمن الرحیم

تحریک طالبان پاکستان ایک نظریاتی، عسکری جماعت ہے جو جھوٹ اور دھوکے کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی ، سیاسی بیان بازیاں سیکولرسیاسی جماعتوں کو ہی زیب دیتی ہے،جنگ اور مذاکرات کے حوالے سے ہمارا موقف اب کھلی کتاب بن چکا ہے اور حکومت کی غیر سنجیدگی بھی عیاں ہوچکی ہے،تمام سنجیدہ طبقےحکومتی رویے سے سخت نالاں ہیں کہ نہ جانے حکومت کن خفیہ قوتوں کے ہاتھوں یرغمال بن کر ملک کو داؤ پہ لگانے پر تلی ہوئی ہے۔۔۔۔۔؟؟

بازاروں اور مساجد میں دھماکے اسلام دشمنوں کی کاروائیاں ہیں جس میں حکومتی ایجنسیاں بھی ملوث ہیں، ہم نے ایسے واقعات سے ہمیشہ اظہار براءت کیا ہے۔ ہم مسلمانوں کی جان و مال کے محافظ ہیں۔ ایسے سرکاری اہداف کو نشانہ بنانے میں بھی احتیاط کرتے ہیں جن میں عام مسلمانوں کے نقصان کا زیادہ اندیشہ ہو۔

حکومت مذاکرات کی آڑ میں سکیورٹی فورسز کو بے گناہ مسلمانوں کےخلاف پورے ملک میں کاروائیوں کا حکم دے چکی ہے ، بیسیوں لوگوں کو ایک ہی حملے میں مار دیا جاتا ہے، خفیہ ایجنسیاں مسلسل لاپتہ افراد کی لاشیں پھینک رہی ہیں ، اب تو اس انسانیت سوز حرکت کو قانون کا درجہ دے دیا گیا ہے،ایسی صورتحال میں ہم پر حملے جاری رکھنے کا اعتراض بلکل بیجا ہے۔

موجودہ حکومت بھی ماضی کی حکومتوں کی روش پر چل پڑی ہے ، جنہوں نے ہمیشہ مذاکرات کو سیاسی اور جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ، طالبان کو ہٹ دھرم اور ضدی ثابت کرکے انکے خلاف جنگ کی امریکی خواہش پوری کی اور بدلے میں چند ڈالر لےکر اسلام اور ملک و قوم کا سودا کیا ،اگر حکمرانوں کو ڈالروں کی چمک اندھا نہ کرتی اور وہ اس ملک سے مخلص ہوتے تو یہ جنگ شروع ہی نہ ہوتی۔۔۔۔امریکہ کی خواہش پر امریکی ڈالروں کے لئے شروع ہونے والی جنگ امریکی خواہش پر آج تک جاری ہے۔۔۔۔۔!!

ہم واضح کرتے ہیں کہ مذاکرات کے نام پر الزام اور دھوکے کی سیاست کے بجائے سنجیدہ بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں، اسلام سے محبت رکھنے والا، محب وطن باشعور طبقہ ہوشیار اور بیدار ہو جائے اور اس ملک کو امریکی غلامی سے نکال کر ایک آزاد اسلامی ریاست کی طرف لیجانے کے لئے مجتمع ہو جائے ورنہ اگر اسی طرح بے گناہ قبائل پر جنگیں مسلط کی جاتی رہیں تو یہ ملک کسی خطرناک بحران سے دوچار ہو سکتا ہے۔۔۔۔!!

شاہد اللہ شاہد
(مرکزی ترجمان تحریک طالبان پاکستان)
———-

04/04/1435
05/02/2014

الله أكبر

{وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لا يَعْلَمُونَ}

=&0=&

حركة طالبان باكستان
تحریکِ طالبان پاکستان

المصدر : (مركز صدى الجهاد للإعلام)
مآخذ : (صدى الجہاد میڈیا سینٹر)
الجبهة الإعلامية الإسلامية العالمية
عالمی اسلامی میڈیا محاذ
رَصدٌ لأخبَار المُجَاهدِين وَ تَحرِيضٌ للمُؤمِنين
مجاہدین کی خبروں کی مانیٹرنگ کرنا اورمؤمنین کو ترغیب دلان
__________

To inquire about a translation for this statement for a fee email: [email protected]

‘Umar Studio presents a new statement from the Teḥrīk-ī-Ṭālibān Pākistān: "Announcement About the Formation of a Negotiating Team"

Lnqj1

بسم الله الرحمن الرحيم

اجلاس میں طویل غور و خوض کے بعد ایسے وفد کی تشکیل پر اتفاق ہوا جو حکومتی ارکان کے ساتھ با آسانی رابطہ کر سکے اور تحریک طالبان
کا موقف حکومت اور پاکستان کے مسلمانوں کو بہتر انداز میں پیش کرسکے۔

اجلاس میں تمام ارکان کی اتفاق سے درج ذیل فیصلے ہوئے:

1. تحریک طالبان پاکستان اور حکومت کے مابین باقاعدہ مذاکرات کے انعقاد کے لئے ایک مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی
گئ ہے جو درج ذیل حضرات پر مشتمل ہے۔

ا۔ مولانا عبد العزیز صاحب خطیب لال مسجداسلام آباد
۲۔ مولانا سمیع الحق صاحب مہتمم جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک
۳۔ عمران خان صاحب چیئرمین تحریک انصاف
۴۔ مفتی کفایت اللہ صاحب صوبائی رہنما جمعیت علمائ اسلا
۵۔ پروفیسر ابراہیم صاحب صوبائی امیر جماعت اسلامی

2.تحریک طالبان پاکستان کی سیاسی شوری مذاکراتی کمیٹی کی مکمل رہنمائی اور نگرانی کرے گی۔

3.تحریک طالبان پاکستان اپنی عملداری والے علاقوں میں مذاکراتی وفود کو مکمل تحفظ اور سکیورٹی فراہم کرے گی۔

تحریک طالبان پاکستان پوری سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ حکومت سے مذاکرات کرنا چاہتی ہے اور اس حوالے سے ہمارا موقف پاکستان کے
مسلمانوں پر واضح ہے۔

ہم امید رکھتے ہیں کہ موجودہ حکومت ماضی کی حکومتوں کی طرف سے کی گئی غلطیوں کو نہیں دہرائے گی۔
ماضی کی حکومتوں نے مذاکرات کو ہمیشہ جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جس کی وجہ سے پاکستان میں امن کا قیام کبھی ممکن نہ ہوسکا ۔

شاہد اللہ شاہد
مرکزی ترجمان تحریک طالبان پاکستان

———-

04/04/1435
05/02/2014

الله أكبر

{وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لا يَعْلَمُونَ}

مؤسسة عمر للإعلام
ادارہ عمر برائے نشرواشاعت
 
حركة طالبان باكستان
تحریکِ طالبان پاکستان
المصدر : (مركز صدى الجهاد للإعلام)
مآخذ : (صدى الجہاد میڈیا سینٹر)
الجبهة الإعلامية الإسلامية العالمية
عالمی اسلامی میڈیا محاذ
رَصدٌ لأخبَار المُجَاهدِين وَ تَحرِيضٌ للمُؤمِنين
مجاہدین کی خبروں کی مانیٹرنگ کرنا اورمؤمنین کو ترغیب دلان

__________

To inquire about a translation for this statement for a fee email: [email protected]

The Islamic Emirate of Afghanistan releases Issue #94 of al-Ṣamūd Magazine

NOTE: Previous issues: #93, #92, #91#90#89#88#87#86#85#84#83#82#81#80#79#78#77#76#75#74#73#72#71#70#69#68#67#66#65#64#63#62#61#60#59#58#57#56#53, and #51.


Click the following link for a safe PDF copy: The Islamic Emirate of Afghanistan — Issue #94 of al-Ṣamūd Magazine
__________

To inquire about a translation for this magazine issue for a fee email: [email protected]

‘Umar Studio presents a new audio message from the Teḥrīk-ī-Ṭālibān Pākistān's Shāhid Allah Shāhid: "The Position of the Movement On the Negotiations With the Pakistani Regime"

0HlAb
Shāhid Allah Shāhid — “The Position of the Movement On the Negotiations With the Pakistani Regime”

_________

To inquire about a translation for this audio message for a fee email: [email protected]

‘Umar Studio presents a new statement from the Teḥrīk-ī-Ṭālibān Pākistān: "Mawlānā Samī’a’s Correct Decision to Abandon Negotiations Between the Ṭālibān and the Pakistani Regime Due to the Hypocrisy of the Government’s Position In Supporting the Ṭālibān"

Lnqj1

بسم الله الرحمن الرحيم

تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات سے متعلق اے پی سی کے انعقاد کے بعد حکومت نے مذاکرات سے متعلق پرزور بیانات کاسلسلہ جاری رکھااور عملا مذاکرات شروع کرنے سے مکمل اجتناب برتا گیا، عوام کو دھو کا دینے کے لئے علماءکرام کو متحرک کرنے کا ڈھنڈورا پیٹا گیا اور ان سے منسوب ایک بیان بھی جاری کروایا گیا( اس بیان کی حقیقت کیا تھی ؟ہم ا چھی طرح اس سے آگاہ ہیں)، اسی دوران مسلسل طالبان کی سخت شرائط کا پروپیگنڈہ بھی کیا گیا ۔
ابھی کچھ عرصے سے پھر حکومتی وزرا تحریک طالبان کے بارے میں پورے شد ومد سے مذاکرات سے انکار کا پروپیگنڈہ کر رہے ہیں،جبکہ تحریک طالبان کا اس حوالے سے موقف شروع دن سے ہی نہایت واضح ہے کہ ہم مذاکرات کے لئے تیار ہیں لیکن حکومت اپنا اختیار اور اخلاص ثابت کرے ۔

ماضی کے ناکام معاہدوں کی بنیادی وجہ حکومتوں کا بے اختیار اور اور غیر سنجیدہ ہونا ہی تھا، ہم اس حکومت کا بھی اصل اختیار انہی ہاتھوں میں سمجھتے ہیں جنہوں نے پورے ملک کو ایک فون کال پر ڈھیر ہو کر امریکہ کے حوالے کیا تھا،جنہوں نے لال مسجد کو معصوم طالبات کے خون سے رنگین کیااور سوات ووزیرستان سمیت ملک بھر میں اسلام سے محبت رکھنے والوں کو آتش وآہن کی سزا دی۔

اگر حکومت مخلص اور با اختیار ہوتی تو عین مذاکراتی عمل کے دوران مولانا ولی الرحمن اور امیر محترم حکیم اللہ مسعودرحمھما اللہ کی شہادتوں کے واقعات کبھی پیش نہ آتے، بات در اصل یہ ہے کہ اس ملک میں ہمیشہ نادیدہ قوتوں کی حکمرانی رہی ہے ،جو کبھی اسلام اورملک کے وفادار نہیں رہے، ملک کے منتخب حکمران بھی دراصل انہی کے اشارۂ ابرو کے غلام ہوتے ہیں،لہذا ہونا وہی ہوتا ہے جو وہ چاہتے ہیں۔

مولانا سمیع الحق صاحب کو اس عمل میں شریک کرنے کا مقصد بھی ایک سیاسی حربے سے بڑھ کر اور کچھ بھی نہیں تھا،حقیقت حال سے اچھی طرح واقف ہونے کے باوجود مولانا کے نمائندوں کو ہم نے مثبت جواب دیا ،جبکہ ہونا وہی تھا جو طے شدہ تھا ،مولانا کواپنے رابطوں پراس وقت سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑاجب ملاقات تو درکنار” مذاکرات کے زبردست حامی“چوہدری نثار صاحب سے فون پر بات کرنے کے لئے بھی انہیں مشکلات پیش آنے لگیں، بالآخر انہوں نے اس دھوکے اور سیاسی حربے والے مذاکرات کی حقیقت کا ادراک کر لیا اور اس عمل سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا۔

مولانا کے اقدام سے تحریک طالبان کے موقف کی تصدیق ہوتی ہے ، کہ مولانا صاحب نے با لکل وہی باتیں کی ہیں جو ہم ہمیشہ سے کہہ رہے ہیں کہ حکومت سنجیدہ اور مخلص نہیں ہے ، ورنہ مولانا کو تو خود انہوں نے رابطے کا ٹاسک دیا تھا۔۔۔۔؟؟

ہم پاکستان کے مسلمانوں پر یہ بات واضح کرنا چاہتے ہیں کہ تحریک طالبان نے کبھی سنجیدہ اور بامقصد مذاکرات سے انکار نہیں کیالیکن یہ منافق حکمران مذاکرات کے نام پر آپکی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں ،اور لال مسجد و سوات آپریشن کی طرح ایک بار پھر شریعت کے متوالوں پر جنگ مسلط کرنا چاہتے ہیں، تحریک طالبان کی طرف سے دو ٹوک موقف سامنے آنے کے باوجود یہ بات چیت سے کنی کترا کر امریکہ اور جرنیلوں کی منشا پوری کرنے کی راہ اپنا رہے ہیں اور انہوں نے بے گناہ لوگوں کے قتل عام کا سلسلہ شروع کر چکے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس ملک کے عوام مزید کسی تباہ کن جنگ کو سہنے کے ہرگز متحمل نہیں ہیں،قبائلی عوام پر مسلط کی جانے والی اس جنگ کا نتیجہ ایک اور مشرقی پاکستان کے سانحے کی شکل میں رونما ہو سکتا ہے ،آج جنگ تو تم اپنی مرضی سے شروع کر لو گے لیکن کل ہم سے اس کے خاتمے کی بھیک مت مانگنا!!

شاہد اللہ شاہد
مرکزی ترجمان تحریک طالبان پاکستان

24/03/1435
25/01/2014

الله أكبر

{وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لا يَعْلَمُونَ}

مؤسسة عمر للإعلام
ادارہ عمر برائے نشرواشاعت
حركة طالبان باكستان
تحریکِ طالبان پاکستان
=&2=&=&3=&=&4=&=&5=&=&6=&=&7=&=&8=&

__________

To inquire about a translation for this statement for a fee email: [email protected]

New statement from the Islamic Emirate of Afghanistan's Qārī' Yusuf Aḥmadī: "Remarks Regarding the 12th Year of the Inhumane American Prison (Guantánamo)"


The twelfth year of the symbol of American savagery, the infamous Guantanamo prison, arrives as there are still up to 150 innocent Muslims still locked up behind cages and in solitary confinements.
The inmates inside this prison spend their days and nights in hunger, thirst and unimaginable misery. Neither did the America chief Obama take any steps in the closure of this infamous prison which he had talked about in his initial years nor has any self proclaimed Human Right organization heard the voices of the oppressed inmates. The American criminals have committed various types of torture and suppression against the oppressed prisoners for the past twelve years yet no one ever cared about their peaceful hunger strikes and neither did anyone take any practical steps to free them from their depressing condition. We once again call on the Islamic Conference and all other international human right organizations, due to the principal of human sympathy and their own moral obligation, to force the America tyrants to close this notorious prison, release the innocent inmates being held without any criminal charges and prove their slogans of humanitarian concern and human rights are not simply empty rhetoric that Americans preach to other countries but fail to practice themselves.
We believe that the tortuous treatment of the innocent prisoners of Guantanamo has reached its utmost extent. The barbarity of Guantanamo is a blot on moral conscience of the international community. It is time for the international community to compel the closure of this prison and finally put an end to this barbarity which has no equal in human history.

 

Spokesman of the Islamic Emirate of Afghanistan

Qari Muhammad Yusuf Ahmadi

19/3/1435 Lunar Hijri

31/11/1392 Solar Hijri                    21/1/2014 Gregorian

__________

New statement from the Islamic Emirate of Afghanistan's Zabīhullah Mujāhid: "Remarks Regarding Demands by America"


After a series of recent attacks against foreign invaders in Afghanistan, the latest of which was a martyrdom operation inside Kabul targeting high ranking American and other foreign invaders in which tens where handed retributive justice for their actions, America was compelled to ask the Islamic Emirate to hold peace talks with the Kabul regime and lay down their arms, also stating that the American invaders are supposedly working for a better future of Afghanistan!!?? While failing to mention anything regards its own recent savagery in Siyah Gerd district!!!
We strongly reject the American demand. America wants to turn a blind eye from a manifest reality and conveniently skip over the primary reason for the problems of Afghanistan. The major factor which has been antagonizing our oppressed nation for the past twelve years is the American invasion and its resultant barbarity. America similarly wants to portray those of its nationals who are the enemies of our land and religion and are working for the aims of the occupation as the friends and rebuilders of our country.
If America truly wants peace and stability for Afghanistan then it should immediately withdraw all its forces from our land and leave the Afghans to their own wills and aspirations.
If America is adamant on war and occupation then it should wait for more deadly attacks. The Islamic Emirate has a responsibility towards its Lord (Allah), people and country and it shall not back away from any kind of sacrifice in the way of its fulfillment.
Until we have completely freed our country of the menace of occupation; until we have established an Islamic government in accordance with the desires of our nation in our country and until we have fulfilled the aspiration of our martyrs from our two great Jihads, do not hope for us to lay down our arms but instead work on changing the course of your own wrong policies and imperialist goals.

 

The spokesman of Islamic Emirate of Afghanistan

Zabihullah Mujahid

18/03/1435 Hijri Lunar

29/10/1392 Hijri Solar                    19/01/2014 Gregorian

___________