‘Umar Studio presents a new statement from the Teḥrīk-ī-Ṭālibān Pākistān: “Explanation About the Truce, It Has By Agreement of the Shūrā Council and All of the Groups of the Movement Are Committed To It”

Lnqj1

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

تحریک طالبان پاکستان نے جنگ بندی کا اعلان شوری کے اتفاق اور امیر محترم کی مکمل تائید کے ساتھ کیا ہے.تحریک طالبان کا کوئی حلقہ یا مجموعہ امیر محترم کے حکم اور تحریک کی پالیسی کی مخالفت نہیں کرسکتا ہے۔

ہم شریعت کے پابند ہیں اور شریعت کے لئے جد وجہد کررہے ہیں،جنگ بندی کے اعلان کے بعد اسکی خلاف ورزی کو غیر شرعی اور ناجائز سمجھتے ہیں.

جنگ بندی کے فیصلے کے بعد ملک بھر میں موجود اپنے تمام ساتھیوں کو جنگ بندی کی مدت کے دوران ہر قسم کی عسکری کاروائیاں روکنے کا حکم جاری کر چکے ہیں.

اس دوران ہونے والے کسی واقعے سے ہماراکوئی تعلق نہیں ہوگا.

اسلام آباد میں پیش آنے والےواقعے سے تحریک طالبان کا کوئی تعلق نہیں ہےاور نہ ہی ہمارا کوئی ساتھی اس کاروائی میں ملوث ہے۔

اسلام اورملک دشمن عناصر تحریک طالبان کے واضح اعلان کے باوجود پروپیگنڈے کی سیاست کرنے میں مصروف ہیں اور پاکستان کا میڈیا بھی اس معاملے میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کررہا ہے.

ان واقعات کے پیچھے موجود ہاتھوں کو تلاش کرنا ہماری ذمہ داری نہیں ہے.بالفرض ہمارے کسی مجموعےکے ملوث ہونے کے ثبوت مل جائیں تو لا محالہ ان سے امیر محترم کے حکم اورتحریک کی پالیسی کی مخالفت پر ضرور بازپرس کریں گے۔

شاہد اللہ شاہد
مرکزی ترجمان تحریک طالبان



الثلاثاء 03 جمادى الأولى 1435 هـ
04/03/2014
الله أكبر

{وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لا يَعْلَمُونَ}

مؤسسة عمر للإعلام
ادارہ عمر برائے نشرواشاعت

حركة طالبان باكستان
تحریکِ طالبان پاکستان

المصدر : (مركز صدى الجهاد للإعلام)
مآخذ : (صدى الجہاد میڈیا سینٹر)

الجبهة الإعلامية الإسلامية العالمية
عالمی اسلامی میڈیا محاذ

رَصدٌ لأخبَار المُجَاهدِين وَ تَحرِيضٌ للمُؤمِنين
مجاہدین کی خبروں کی مانیٹرنگ کرنا اورمؤمنین کو ترغیب دلان

___________

Source: https://alfidaa.info/vb/showthread.php?t=95259

To inquire about a translation for this statement for a fee email: azelin@jihadology.net

New statement from the Islamic Emirate of Afghanistan’s Qārī’ Yusef Aḥmadī: “Remarks Regarding the Killing of Turkmenistan Border Guards”

Some media outlets published a report two days earlier asserting that 3 border guards from neighboring country of Turkmenistan were killed in the border region by unknown gunmen that apparently crossed over from our country. Regretfully some officials of the stooge Kabul regime in Badghis province blamed the incident on the Mujahideen of Islamic Emirate to achieve their malicious objective.

The Islamic Emirate strongly condemns this harmful incident and categorically rejects its involvement in such detrimental and irresponsible actions while it also extends its condolences to Turkmenistan and the family members of the said police officers.

It must be mentioned that the Islamic Emirate of Afghanistan wants cordial relations in the framework of mutual respect with its neighboring and regional countries as well as the international community. It does not interfere with the affairs of others and neither does it accept interference by others in its own affairs. The Islamic Emirate had good relations with its neighboring countries during the time of its rule and is still committed to the principles of good neighborly relations and mutual respect.

We must say that Turkmenistan has respected the principles of good neighborly relations with our beloved homeland in the past and has not interfered with the affairs of our country. We respect and encourage this sound policy of the said neighboring country and hope for its continuation in the future.

Spokesman of Islamic Emirate of Afghanistan

Qari Yousuf Ahmadi

29/04/1435 Hijri Lunar

10/12/1392 Hijri Solar                01/03/2014 Gregorian

___________

Source: http://shahamat-english.com/index.php/paighamoona/42610-remarks-of-spokesman-of-islamic-emirate-regarding-the-killing-of-turkemistan-border-guards

‘Umar Studio presents a new statement from the Teḥrīk-ī-Ṭālibān Pākistān: “To the Pakistani Media To Focus On the Real Reasons For the War Instead of Numbers and Statistics”

Lnqj1


بسم اللہ الرحمن الرحیم
 

میڈیا پر پاکستان میں جاری کاروائیوں کے اعداد وشمار بڑے شد ومد کے ساتھ پیش کیے جارہے ہیں اور پاکستانی ہوشیار اور دانا میڈیا ان کاروائیوں کی روک تھام کے لئے نت نئے مشورے تراشنے میں مصروف ہے کہ اب کی بار یہ تدبیر اختیار کی جائے،فلاں ایسا کرتا تو یہ مسئلہ یوں قابو ہوجاتا۔۔۔وغیرہاعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کاروائیوں کا آغاز ۲۰۰۱ء کے بعد ہوا ،سال ۲۰۰۴ءتک اس میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آیا ۲۰۰۷ء کے بعد ان کاروائیوں میں واضح طور پر اضافہ ہوا اور یہ مسئلہ ایک چیلنج کی شکل اختیار کرگیا۔۔۔۔۔اور اب ۲۰۱۳ ،۲۰۱۴ ءمیں یہ کاروائیاں پورےعروج پر پہنچ چکی ہیں،صورتحال یہ ہے کہ پاکستان بدامنی کی کاروائیوں میں عراق اور افغانستان جیسے ملکوں سے بھی بازی لے گیا ہےاوردنیا میں پہلی نمبر پر آگیا ہے۔۔۔۔

اس صورتحال سے کیسے نکلا جاسکتا ہے۔۔۔؟؟

ایک بھرپور فوجی آپریشن کیا جائے۔۔۔؟ سخت ترین قوانین بنائے جائیں ۔۔۔۔؟قومی سلامتی پالیسی بنائی جائے۔۔۔؟سریع الحرکت (ایس ایس جی سے بھی تیز اور پھرتیلی)فورس تشکیل دیجائے۔۔۔؟مدارس دہشتگردوں کی نرسریاں ہیں ، ان پر پابندی لگائی جائے۔۔۔؟

پاکستان میں ویسے ہی بزرجمہروں کی کوئی کمی نہیں ہے،پھر ایسے اعداد وشمار دیکھ کر ہر سیکولر کا دماغ چلنا شروع ہو جاتا ہے۔۔۔۔اور اس کے دماغ میں اسلام پسندوں کو مٹانے کے نت نئے حربے ابھرنا شروع ہو جاتے ہیں۔۔۔۔۔اس سے قطع نظر کہ یہ حربہ قابل عمل بھی ہے کہ یا نہیں وہ اس کو بڑی ڈھٹائی سے بیان کرتے اور اس پر عمل کرنے پر زور دیتے رہتے ہیں۔۔۔۔۔

جناب الطاف حسین اس پورےمعاملے کی ایک اعلی مثال ہیں۔۔۔ہر صبح شیطان اس کو علماء اور مجاہدین کے خلاف ایک نیا اقدام یاد دلاتا ہے اور وہ لندن سے آن لائن اپنے نادان کارکنوں کو وہ سبق ازبرکراتا رہتا ہے ۔۔۔ہمارے ملک کی میڈیا بھی ایسے ڈھکوسلوں کوارسطو کے فلسفے سے بڑھ کر اہمیت دیتا ہے تو ان کی ہمت اور بھی بندھ جاتی ہے کہ شاید اصل نسخہ وہی ہے جو میں تجویز کرر ہا ہوں۔۔۔۔

کیا ان اقدامات سے یہ مسئلہ کنٹرول ہو جا ئیگا۔۔۔؟؟کیا ایسا کوئی قدم پہلی بار اٹھا یا جائیگا۔۔۔؟؟مریض عشق پر رحمت خدا کی * مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔۔۔۔۔ان اقدامات میں سے شاید ہی کوئی ایسا ہو جو نہ آزمایا گیا ہو ۔۔۔سخت ترین فوجی آپریشنز، ملک بھر سے اندھا دھند گرفتاریاں ،مدارس کی رجسٹریشن۔۔انسداد دہشتگردی عدالتوں کا قیام اور فورتھ شیڈول جیسے کالے قوانین سمیت وہ کونسے اقدامات ہیں جو ان کاروائیوں کی روک تھام کے لئے نہ اٹھا ئے گئے ہوں۔۔۔لیکن کاروائیوں کی شرح میں روز افزوں اضافہ ہی ریکارڈ کیا جارہا ہے۔۔۔

آخر یہ کاروائیاں کیسے تھم جائیں گی۔۔۔؟ وہ کونسا آپشن ہے جسے ابھی تک نہیں اپنا یا گیا۔۔۔۔؟

اس ملک کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس پر ہمیشہ انہی لو گوں کا تسلط رہا جن کو مغرب کی آشیر باد حاصل رہی ۔۔۔امریکہ اور مغربی آقاؤں کی ہر خواہش پر انہوں نے اسلام اور ملک کے مفاد ات کو قربان کرنےمیں ذرا تامل نہیں کیا ۔۔۔

۲۰۰۱ ء میں جب امریکہ امارت اسلامی افغانستان پر حملہ آور ہوا تب ہمارے نامور جرنیل انکے آگے ڈھیر ہوئے۔۔۔اور ایک خالص اسلامی حکومت کے خلاف بغیر کسی وجہ کے امریکہ اور نیٹو اتحاد کے ساتھی بنے اور امارت اسلامی کو ملیامیٹ کر دیا،بات یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ ہزاروں عرب مہاجرین اور افغانوں کو ان بدبختوں نے پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیا ۔۔۔مہاجرین امریکی حملے سے محفوظ پناہ گاہ کی تلاش میں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں داخل ہوئے۔۔۔انہوں نے انکے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا ،ہزاروں لوگ شہید کر دیے گئے،بے شمار گرفتار ہو کر آئی ایس آئی کی سیلوں میں ہمیشہ کے لئے گم ہو گئے۔۔۔لاکھوں بے گھر اور بے آسرا ہو گئے۔۔۔۔مرتے کیا نہ کرتے غیور قبائل پاکستانی ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہو گئے۔۔۔اور پاکستان میں اپنی بقا اور اسلام کی دفاع کا جنگ شروع کر دیا ۔۔۔یہاں سے اس جنگ کا آغاز ہوا۔۔۔۔

چونکہ اس جنگ کی بنیادی وجہ امارت اسلامی کے خلاف امریکہ کی کھلی حمایت اور امریکی جنگ میں ریاست کی مکمل معاونت اور شرکت تھی۔۔۔لہذا ملک میں وقفے وقفے سے عرب مجاہدین کی گرفتاری اور بہت سے مقامات پر انکی مظلومانہ شہادت کے واقعات اس جنگ کو ایندھن فراہم کرتے رہے۔۔۔انتقام کے جذبے سے سرشارہونہار اس میں بھرپور کردارادا کرنے لگے۔۔۔ ؁۲۰۰۳،۲۰۰۴ ؁تک اس مبارک جنگ نے قوت پکڑلی۔۔۔ناعاقبت اندیش فوجی جرنیلوں کے سخت فوجی آپریشن کے فیصلوں نے اس جنگ کو بھر پور فائدہ پہونچایا۔۔۔کیونکہ مجاہدین قبائل کو یہ بات سمجھانے میں باآسانی کامیاب ہو گئے کہ یہ فوج مسلمانوں کی دشمن اورامریکہ کی وفادار اور کرایہ دار ہے۔۔۔۔اوروہ جنگ جو وانا جنوبی وزیرستان تک محدود تھی بڑھتی ہوئی سات ایجنسیوں میں پھیل گئی۔۔۔

ء۲۰۰۵،۲۰۰۶ ءمیں وانا اور باجوڑ وغیرہ میں امریکی ڈرون حملوں کو اپنے حملے قرار دینے کی پالیسی نےمجاہدین کی عوامی حمایت میں زبردست اضافہ کیا اور پاکستان کی اسلام پسند عوام پر حکومت کی اسلام دشمنی کھل کر واضح ہو گئی۔۔۔

۲۰۰۷ءمیں لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں معصوم طلبہ اور طالبات کے خلاف پاکستانی ریاست کے ظالمانہ آپریشن نے اس جنگ کو ملک کے طول و عرض میں پھیلادیا۔۔۔وہ جنگ جو ابھی تک صرف قبائل میں دفاع کی حد تک لڑی جارہی تھی اس کو نفاذ شریعت کاعالی اور پاکیزہ نظریہ فراہم ہوا۔۔۔پاکستان کے مسلمان اچھی طرح جان گئے کہ اصل مسئلہ امریکہ کی دوستی سے بھی بڑھ کر وہ نظام ہےجو ہمارے اوپر قیام پاکستان کے وقت سے ہی مسلط کر دیا گیا ہے۔۔۔اور اب وہ شریعت یا شہادت کے جذبے سے سرشار ہو کر لڑنے لگے۔۔۔نظریاتی بنیادوں پر لڑی جانے والی جنگ بہت مؤثر ثابت ہوئی۔۔ کیونکہ اس کو پاکستان میں ہر علاقے اور ہر طبقے کے لوگوں میں مقبولیت مل گئی ۔۔۔وہ لوگ بھی اس جنگ میں شامل ہو گئے جن کو اس جنگ میں بظاہر کوئی نقصان نہیں پہونچا تھا۔۔۔۔

اور اب الحمد للہ پاکستان کے طول و عرض میں پاکستانی مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد نظریاتی طور پر تحریک طالبان سے منسلک ہو چکی ہے۔۔۔اور اس میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہو رہا ہے۔۔۔نتیجتاً سال ء۲۰۱۳، ۲۰۱۴ء میں مجاہدین کی کاروائیوں کی صلاحیت میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔۔۔

ہم سمجھتے ہیں کہ اگر اس ملک کے حکمران ان کاروائیوں کی روک تھام میں مخلص ہے۔۔۔تو اس کو اس جنگ کے بنیادی اسبا ب پر توجہ دینا ہو گا ، جب تک ان اسباب کا خاتمہ نہیں ہو گا اورلندن میں بیٹھے الطاف حسین جیسے سیانوں کے مشوروں پر عمل ہوتا رہے گا تو اس جنگ میں روز بروز اضافہ تو ہوگا۔۔۔ لیکن اس میں کسی قسم کی کمی دیوانے کا خواب ہی ثابت ہوتا رہے گا۔۔۔۔

اس جنگ کے بنیادی اسباب:

- امریکہ اور نیٹو کا فرنٹ لائن اتحادی بننا

- امارت اسلامی کے سقوط میں بھر پور کردار ادا کرنا

- چند ڈالروں کے عوض عرب مجاہدین کی بہت بڑی تعداد میں گرفتاری اور امریکہ کو حوالگی

- اپنے ہی ملک کے غیرت مند مسلمانوں کے خلاف بد ترین فوجی آپریشنز

- ملک کے طول و عرض میں مجاہدین کی آڑ میں بےگناہ لوگوں کی بے دریغ گرفتاریاں

- لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف پوری ریاستی قوت کا استعمال

- گرفتار ساتھیوں کی مسلسل مسخ شدہ لاشیں پھینکنا

- دہشت گردی کے نام پر مدارس اور دین دار طبقے کے خلاف شر انگیز میڈیا مہم

- اسلام دشمن عناصر کو کھلی چھٹی دینا کہ وہ جو چاہیں کہتے اور کرتے پھریں

- ملک کے ایوانوں سمیت ہر سطح پر اسلام اور شریعت کا کھلا مذاق

یہ وہ چیدہ چیدہ اسباب ہیں جن کو کوئی بھی عقلمند انسان باآسانی سمجھ سکتا ہے کہ انہی وجوہات کی بنا پر یہ جنگ آگ کی طرح پھیلتی چلی گئی اور زور دار کاروائیاں ہیں کہ ہر نئے اقدام کو بے کار کئے دیتی ہیں۔۔۔لہذا ہم پاکستان کے حکمرانوں اور پاکستانی میڈیا سے یہ عرض کرتےہیں کہ اعداد و شمار ضرور جمع کریں لیکن اس کے ساتھ ہی ان اسباب کو بیان کرنے میں بخل نہ کریں جوان کاروائیوں کا اصل سبب ہیں، اگر ان اسباب کے خاتمے کی طرف توجہ دی جائے تو ان کاروائیوں کی شرح میں حیرت انگیز کمی واقع ہو سکتی ہے۔۔۔جہاں تک فوجی آپریشن کی بات ہے تو ہم اس کے شاندار نتیجے کے لئےتیار بیٹھے ہیں۔
ہمیں پورا یقین ہے کہ اس آپریشن میں طالبان مجاہدین کا نقصان نہایت کم اور قبائلی بے گناہ عوام کا بے پناہ نقصان ہو گا۔۔یہ نقصان جن لوگوں کے ہاتھوں ہوگا وہ اس خوش فہمی میں پھر ہرگز نہ رہیں کہ غیور قبائل آپ کو جواب میں پھولوں کا ہار پہنائیں گے۔۔۔۔۔

شاہد اللہ شاہد
مرکزی ترجمان تحریک طالبان



الجمعة 28 ربيع الثاني 1435 هـ
28/02/2014
الله أكبر

{وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لا يَعْلَمُونَ}

مؤسسة عمر للإعلام
ادارہ عمر برائے نشرواشاعت

حركة طالبان باكستان
تحریکِ طالبان پاکستان

المصدر : (مركز صدى الجهاد للإعلام)
مآخذ : (صدى الجہاد میڈیا سینٹر)

الجبهة الإعلامية الإسلامية العالمية
عالمی اسلامی میڈیا محاذ

رَصدٌ لأخبَار المُجَاهدِين وَ تَحرِيضٌ للمُؤمِنين
مجاہدین کی خبروں کی مانیٹرنگ کرنا اورمؤمنین کو ترغیب دلان

 

__________

Source: https://alfidaa.info/vb/showthread.php?t=94905

To inquire about a translation for this statement for a fee email: azelin@jihadology.net

‘Umar Studio presents a new video message from Teḥrīk-ī-Ṭālibān Pākistān: “The Battle of Hind #5″

NOTE: For other parts in this video see: #6, #4#3, and #2.

3Qh6H

_________

Source: https://alfidaa.info/vb/showthread.php?t=94612

To inquire about a translation for this video message for a fee email: azelin@jihadology.net

al-Imārah Studio presents a new video message from the Islamic Emirate of Afghanistan: “The Truthful”

sei gard-PA

___________

Source: http://shahamat-movie.com/index.php/component/webplayer/video/115

To inquire about a translation for this video message for a fee email: azelin@jihadology.net

New statement from the Islamic Emirate of Afghanistan: “Regarding the Genocide of the Muslims of Central African Republic”

For had it not been that Allah checks one set of people by means of another, monasteries, churches, synagogues, and mosques, wherein the Name of Allah is mentioned much would surely have been pulled down. Verily, Allah will help those who help His (Cause). Truly, Allah is All-Strong, All-Mighty. (Al-Hajj:40)

The genocide of the Muslims has been taking place at the hands of criminal Christian thugs for the past three months in the Central African Republic during the span of which tens of thousands of Muslims have been killed while millions have been forced to flee their areas due to the oppression at the hands of these barbaric criminals.

The horrific pictures distributed by some media outlets clearly show how bands of local bestial criminals mercilessly murder Muslims on main roads, villages, markets places and even places of prayers and religious centers before setting their bodies of fire!

Unfortunately all of this is taking place while no country or international and humanitarian organizations, that always call themselves the champions and protectors of mankind and humanity, sit idly by! This in return encourages these sadistic murderers to further continue with their transgressions!

The genocide and forced migration of the Muslims from their areas in CAR, besides being one of the biggest crimes in the history of mankind, poses a danger to the peaceful life and coexistence of Muslims and Christians throughout Africa while it is the main ingredient that will spread the fire of sedition through the entire continent and will start an armed conflict and wedge a divide between the Muslim and Christian nations that have been living side by side for centuries.

Therefore the Islamic Emirate, while considering the emancipation of these oppressed Muslims in the Central African Republic to be the humanitarian and ethical duty of the entire world and especially the Shariah obligation of the Muslim Ummah (nation), strongly condemns these merciless killings at the hands of these bloodthirsty militias. It also calls on the Islamic Conference, United Nations Organizations, International Human Rights Committee, African Union and the highest ranking religious leader of Christians in the Vatican (Pope Francis) to take steps in preventing the mass killings of Muslims in CAR and to fulfill their ethical and humanitarian duties in this regard. 

The Islamic Emirate of Afghanistan

22/04/1435 Hijri Lunar

03/12/1392 Hijri Solar                    22/02/2014 Gregorian

__________

Source: http://shahamat-english.com/index.php/paighamoona/42397-statement-of-islamic-emirate-regarding-the-genocide-of-the-muslims-of-car

New statement from the Islamic Emirate of Afghanistan: “Regarding Allegations By Agha Jan Mutasim and the Dubai Initiative”

Media reports have recently published a statement attributed to a former official of The Islamic Emirate Agha Jan Mutasim which alleges that high ranking officials and commanders of the Islamic Emirate or the Islamic Movement of Taliban  convened a meeting in the United Arab Emirates and showed willingness to launch a peace initiative!!?

The Islamic Emirate of Afghanistan once again declares to all parties that Agha Jan Mutasim does not hold a position in the Islamic Emirate and neither can he represent it. Similarly the Islamic Emirate considers the recent actions and activities of Agha Jan Mutasim detrimental to both the principles of the Islamic Emirate as well as to the goals of the sacred Jihad while being beneficial for both the invading Americans and their stooges. No representatives of the Islamic Emirate have either attended a meeting in Dubai and neither has talks taken place with the stooge Kabul regime or it’s so called High Peace Council. The Islamic Emirate has delegated officials and a political office to conduct its political activities and if a need arises for contacts with any party, a responsible organ will be tasked with the permission of its head, under the guidance of its leadership and on the practical needs of Jihad.  That no one for sure knows the names of the participants that attended the meeting in Dubai, this in itself reveals that neither has a meeting been convened nor has a substantial initiative been launched.

The Kabul regime’s so called High Peace Council which constantly tries to keep its fixed salaries flowing has repeatedly published such futile and baseless reports to stir up media frenzy with false claims of holding talks with rogue figures. The foreign invaders and their hirelings should not strive for repeating their past failed and futile experiments. Ostentatious negotiations and exhibitions will not result in anything other than complicating the issue and prolonging the war. If the Americans and her allies hope that with such fake political proceedings they will divert the attention of the Afghan nation and deplete their fervor for Islam and independence, then they are mistaken and need to reassess the ground realities.

 

Islamic Emirate of Afghanistan

19/04/1435 Hijri Lunar

30/11/1392 Hijri Solar                    19/02/2014 Gregorian

__________

Source: http://shahamat-english.com/index.php/paighamoona/42359-statement-of-islamic-emirate-regarding-allegations-by-agha-jan-mutasim-and-dubia-initiative