Home » Ṭālibān » TTP

Category Archives: TTP

‘Umar Studio presents a new statement from the Teḥrīk-ī-Ṭālibān Pākistān: “Condemning the Prohibited Bombings That Took Place on the General Public in Public Places in the Cities of Rawalpindi and Sibi”

Lnqj1

بسم اللہ الرحمن الرحیم

عوامی مقامات پر حملوں میں بے گناہ لوگوں کی اموات افسوسناک ہے ،ایسے حملے ناجائز اور حرام ہیں۔

تحریک طالبان پاکستان سبی ریلوے اسٹیشن اور راولپنڈی فروٹ منڈی میں ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کرتی ہے،ایسے حملے جن میں خالصتا بے گناہ عوام کو نشانہ بنایا جائے ،
شرعا ناجائز اور حرام ہیں،بلوچ اور سندھ کے
مظلوم عوام ہمارے بھائی ہیں ،ریاستی عناصر کی طرف سے ان پر ہونے والےمظالم تاریخ انسانی کا سیاہ ترین باب ہے،لیکن ایسے حملوں کے جواب میں بے گناہ عوام کو نشانہ بنانا بھی اسی طرح کاہی ظلم ہے۔

ایسےحملوں میں خفیہ ہاتھوں کے ملوث ہونے کو بھی قطعا فراموش نہیں کرنا چاہئے جو پاکستان کے مسلمانوں پر حملے کر کے ان کو اسلام سے
محبت کی سزا دینا چاہتے ہیں،
وہ جب کسی عسکری تنظیم کو قابو کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں تو اس طرح کے وحشیانہ دھماکے کر کے ان کو بدنام کرنے
کی کوشش کرتے ہیں،ماضی میں تحریک طاکبان کے نام پر لاہور اور پشاور سمیت کئی شہروں میں خفیہ قوتوں کی طرف سے دھماکے کیے جاتے رہے ہیں۔

تحریک طالبان کی جانب سے سیز فائر پر منظم عمل درآ مد کا پورا میڈیا اعتراف کر چکا ہے، پاکستان کے باشعور لوگوں کو اب اس بات کا واضح ادراک کر
لینا چاہئے کہ عوامی مقامات پر ہونے والے حملوں کے پیچھے کون سے عناصر ملوث ہیں۔

شاہد اللہ شاہد
مرکزی ترجمان تحریک طالبان

الخميس 10 جمادى الاخرة 1435 هـ
10/04/2014

الله أكبر

{وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لا يَعْلَمُونَ}

مؤسسة عمر للإعلام
ادارہ عمر برائے نشرواشاعت

حركة طالبان باكستان
تحریکِ طالبان پاکستان

المصدر : (مركز صدى الجهاد للإعلام)
مآخذ : (صدى الجہاد میڈیا سینٹر)

الجبهة الإعلامية الإسلامية العالمية
عالمی اسلامی میڈیا محاذ

رَصدٌ لأخبَار المُجَاهدِين وَ تَحرِيضٌ للمُؤمِنين
مجاہدین کی خبروں کی مانیٹرنگ کرنا اورمؤمنین کو ترغیب دلان

_____________

Source: https://alfidaa.info/vb/showthread.php?t=96990

To inquire about a translation for this statement for a fee email: azelin@jihadology.net

‘Umar Studio presents a new statement from the Teḥrīk-ī-Ṭālibān Pākistān: “The Ṭālibān Has Fulfilled the Conditions of the Truce, But the Government Has Not Passed In Any One Condition, and Proving To the World Its Confusion”

Lnqj1

بسم اللہ الرحمن الرحیم

غیر عسکری قیدیوں اور پیس زون کے معاملے پر حکومت کی طرف سے اب تک کوئی پیش رفت نہ ہونا لمحہ ٔفکریہ ،
جبکہ ملک بھر میں ہمارے ساتھیوں کےخلاف بدستورجاری کاروائیاں ناقابل برداشت ہے۔

تحریک طالبان اور حکومت کے درمیان جاری مذاکرات کے ابتدائی مرحلے میں خوشگوار ماحول میں مذاکرات کے انعقاد کے لئے حکومت کی طرف سے
سیزفائر کے مطالبے کو طالبان نے پوری سنجیدگی کے
ساتھ پورا کیا،جبکہ طالبان کی جانب سے پیش کی گئی باتوں پر حکومت مسلسل لیت ولعل سے کام لے رہی ہے.

طالبان کی طرف سے کامیاب مذاکرات کے آغاز کے لئےابتدائی طور پر تین مطالبے پیش کیے گئے تھے:

1.فری پیس زون کا قیام جہاں فریقین کا آمد ورفت بسہولت ممکن ہو۔

2. غیر عسکری قیدیوں کی غیر مشروط رہائی۔

3.پورے ملک میں تحریک طالبان کے خلاف جاری کاروائیوں کی فوری روک تھام۔

جبکہ ان تینوں معاملات میں حکومتی پیش رفت کی پوزیشن یہ ہے:

غیر عسکری قیدیوں کی فہرست حکومتی کمیٹی کے حوالے کیا گیاتاہم اب تک کوئی قیدی ہماری کمیٹی کے حوالے نہیں کیا گیا ہے۔

پیس زون کے قیام پر حکومتی کمیٹی اور بعض اعلی حکام کے بیانات حکومتی اداروں کے مابین عدم اعتماد کا واضح مظہر ہے ۔

جبکہ ملک بھر میں طالبان کے خلاف کاروائیاں (گرفتاریاں،چھاپے،قیدیوں پر تشدد اور مسخ شدہ لاشیں ملنے کے سلسلے ۔۔۔)بھی بدستور
جاری ہیں جو ناقابل برداشت اور سیز فائر پر سوالیہ نشان ہے۔۔۔؟

تحریک طالبان نے اسلام اور پاکستان کے مفاد کی خاطر مذاکرات میں بہتر ماحول کی فراہمی کی خاطر لچکدار رویہ ،سنجیدہ کوشش اور مخلصانہ اقدامات
اٹھائے جبکہ جواب میں اب تک گرفتاریاں،ساتھیوں کی مسخ شدہ لاشیں اورقیدیوں پر وحشیانہ تشدد کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔۔۔۔۔!!

پاکستان کے باشعور اور سنجیدہ طبقے کو یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرناچاہئے کہ اس معاملے میں حکومت اور طالبان میں کون زیادہ سنجیدہ اور مخلص ہے۔۔؟
اور یہ کہ مذاکرات میں طے پانے والے امور پر فیصلوں میں انتشار اور کنفیوژن کاشکار طالبان ہیں یا حکومت۔۔۔؟؟

شاہد اللہ شاہد
مرکزی ترجمان تحریک طالبان

الخميس 10 جمادى الاخرة 1435 هـ
10/04/2014

الله أكبر

{وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لا يَعْلَمُونَ}

مؤسسة عمر للإعلام
ادارہ عمر برائے نشرواشاعت

حركة طالبان باكستان
تحریکِ طالبان پاکستان

المصدر : (مركز صدى الجهاد للإعلام)
مآخذ : (صدى الجہاد میڈیا سینٹر)

الجبهة الإعلامية الإسلامية العالمية
عالمی اسلامی میڈیا محاذ

رَصدٌ لأخبَار المُجَاهدِين وَ تَحرِيضٌ للمُؤمِنين
مجاہدین کی خبروں کی مانیٹرنگ کرنا اورمؤمنین کو ترغیب دلان

___________

Source: https://alfidaa.info/vb/showthread.php?t=96989

To inquire about a translation for this statement for a fee email: azelin@jihadology.net

‘Umar Studio presents a new video message from Teḥrīk-ī-Ṭālibān Pākistān: “The Battle of Hind #7″

NOTE: For other parts in this video see: #6, #5#4#3, and #2.

ZmD60

____________

Source: https://alfidaa.info/vb/showthread.php?t=96492

To inquire about a translation for this video message for a fee email: azelin@jihadology.net

‘Umar Studio presents a new statement from the Teḥrīk-ī-Ṭālibān Pākistān: “Giving a List of Non-Combatant Families To the Negotiating Team to Prove the Existence of Secret Prisons For the Security Services”

Lnqj1

بسم اللہ الرحمن الرحیم

خواجہ آصف بحیثیت وزیر دفاع خفیہ حراستی مراکز کی اصل تعداد اور انکے مقام سے بھی آگاہ نہیں ہونگے تو ان میں موجود افراد کا ان کو کیا علم ہو سکتا ہے؟؟

فاٹا، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان سمیت ملک کے ہر حصے میں سکیورٹی فورسز کے سینکڑوں خفیہ حراستی مراکز ایک حقیقت ہیں جس سے اب آنکھیں چرانا ممکن نہیں ہے،تحفظ پاکستان آرڈیننس کے نام سے حکومت نے ان غیر قانونی اور غیرانسانی خفیہ مراکز اور انکے کرداروں کو قانونی حیثیت تو دے دی لیکن خواجہ آصف صاحب بتائیں کہ انہوں نےآپ کے قانون کا پاس رکھتے ہوئے اب تک کتنے گمشدہ لوگوں کو عدالت میں پیش کیا۔۔۔؟ چیف جسٹس نے وزیر دفاع اور وزیر اعظم کو کن لوگوں کو پیش نہ کرنے پر مقدمات قائم کرنے کی دھمکی دی تھی۔۔؟؟

نجانے خواجہ صاحب کن قوتوں کے اشارے پر امن مذاکرات مشن کو داؤ پر لگانا چاہتے ہیں۔۔؟ْ؟یا حکومتی کیمپ میں کنفیوژن موجود ہے۔۔۔

ہم نے اپنی کمیٹی کو بطور ثبوت کچھ غیر عسکری قیدیوں کی فہرست دے دی ہے ،تحقیق حکومتی کمیٹی کا کام ہے،اگر پیش رفت ہوئی تو دیگر قیدیوں کے نام بھی پیش کر دیں گے۔

شاہد اللہ شاہد
مرکزی ترجمان تحریک طالبان

الجمعة 20 جمادي أول 1435 هـ

21/03/2014

الله أكبر

{وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لا يَعْلَمُونَ}

مؤسسة عمر للإعلام
ادارہ عمر برائے نشرواشاعت

حركة طالبان باكستان
تحریکِ طالبان پاکستان

المصدر : (مركز صدى الجهاد للإعلام)
مآخذ : (صدى الجہاد میڈیا سینٹر)

الجبهة الإعلامية الإسلامية العالمية
عالمی اسلامی میڈیا محاذ

رَصدٌ لأخبَار المُجَاهدِين وَ تَحرِيضٌ للمُؤمِنين
مجاہدین کی خبروں کی مانیٹرنگ کرنا اورمؤمنین کو ترغیب دلان

___________

Source: https://alfidaa.info/vb/showthread.php?t=96266

To inquire about a translation for this statement for a fee email: azelin@jihadology.net

‘Umar Studio presents a new statement from the Teḥrīk-ī-Ṭālibān Pākistān: “On the Perpetration of the Pakistani Security Agencies With Numerous Irregularities For the Truce”

Lnqj1

بسم اللہ الرحمن الرحیم

گرفتاریاں ،چھاپے ، گولہ باری اور قیدیوں پر تشددجنگ بندی کی خلاف ورزی ہے،یہ سلسلہ مذاکراتی عمل کے لئے پیداکرہ بہتر ماحول کو متاثر کر رہا ہے۔

جنگ بندی کے اعلان کے بعد پاکستانی سکیورٹی ادارے مختلف علاقوں میں مسلسل کاروائیاں جاری رکھےہوئے ہے،باجوڑ اور مہمند ایجنسی میں گولہ باری اورسرچ آپریشن کیا جارہا ہے،کراچی ،پشاور،صوابی،چارسدہ کے پچیس متنازعہ دیہات، تحصیل کلاچی کے علاوہ متعدد مقامات پر سرچ آپریشن اور چھاپوں میں متعدد بے گناہ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

پشاور،مہمند(غلنئی ) اور کراچی سینٹرل جیل میں قید اسیروں پر عرصئہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے،قیدیوں کو چکیوں میں بند کر کے شدیداذیت دی جارہی ہے جبکہ کراچی سینٹرل جیل سے بلاوجہ قیدیوں کو سندھ ، پنجاب اور بلوچستان کی جیلوں میں منتقل کیا جارہا ہے، ان جیلوں میں منتقلی کے ذریعےقیدیوں کو کیسوں کے علاوہ اہلخانہ اور رشتداروں سے ملاقاتوں میں شدید مشکلات پیداکرنا مقصود ہےجو سمجھ سے بالاتر فیصلہ ہے۔

تحریک طالبان پاکستان پوری سنجیدگی کے ساتھ جنگ بندی کے فیصلے پر عمل پیرا ہے،اور احرار الہند اور جند اللہ جیسی گرپوں سے لاتعلقی کا اعلان بھی کر چکی ہے،تاہم حکومتی صفوں میں موجود بہت سے عناصر مذاکراتی ماحول کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،حکومت کو چاہئے کہ ایسے عناصر کو قابو کرکےان کی سرزنش کرے۔

ہم ایک بار پھر اس عزم کو دہراتے ہیں کہ تحریک طالبان پاکستان نہایت اخلاص اور سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کی کامیابی کے لئے کوشاں رہے گی اور تحریک کے کسی فرد کو جنگ بندی کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دیں گے اور حکومت سے توقع کرتے ہیں کہ وہ ان واقعات کا فوری نوٹس لے کر ان کے روک تھام پر توجہ دے گی تاکہ مذاکراتی عمل خوشگوار ماحول میں انجام پذیر ہو۔

شاہد اللہ شاہد
مرکزی ترجمان تحریک طالبان

الثلاثاء 17

 

جمادي أول

1435 هـ
18/03/2014

الله أكبر

{وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لا يَعْلَمُونَ}

مؤسسة عمر للإعلام
ادارہ عمر برائے نشرواشاعت

حركة طالبان باكستان
تحریکِ طالبان پاکستان

المصدر : (مركز صدى الجهاد للإعلام)
مآخذ : (صدى الجہاد میڈیا سینٹر)

الجبهة الإعلامية الإسلامية العالمية
عالمی اسلامی میڈیا محاذ

رَصدٌ لأخبَار المُجَاهدِين وَ تَحرِيضٌ للمُؤمِنين
مجاہدین کی خبروں کی مانیٹرنگ کرنا اورمؤمنین کو ترغیب دلان

___________

Source: https://alfidaa.info/vb/showthread.php?t=96075

To inquire about a translation for this statement for a fee email: azelin@jihadology.net

‘Umar Studio presents a new video message from Teḥrīk-ī-Ṭālibān Pākistān’s Shaykh Khālid Ḥaqqānī: “To the Oppressed People of Balūchistān”

u1tO7

___________

Source: https://alfidaa.info/vb/showthread.php?t=95544

To inquire about a translation for this video message for a fee email: azelin@jihadology.net

‘Umar Studio presents a new statement from the Teḥrīk-ī-Ṭālibān Pākistān: “On the Martyrdom of the Commander ‘Iṣmat Allah Shāhīn At the Hands of the Pakistani Intelligence Services in Wazīristān”

Lnqj1

بسم اللہ الرحمن الرحیم

امیر محترم عصمت اللہ شاہین بیٹنی بتاریخ۲۴؍۰۲؍۲۰۱۴؁ بمقام درگہ منڈی شمالی وزیرستان میران شاہ میں شہید کیے گئے، اناللہ واناالیہ راجعون ۔

شاہین شہید رحمہ اللہ تحریک طالبان پاکستان کے اہم اور سنجیدہ قائدین میں سے تھے،یقیناآپ رحمہ اللہ کی شہادت سے تحریک طالبان کو ایک ناقابل تلافی نقصان پہونچا ہے،آپ کی شہادت سے پیدا ہونے والا خلا پر کرنا مشکل ہوگامگر ہم جانتے ہیں کہ مجاہد کی اول وآخر تمنا اورآرزوشہادت ہی ہوتی ہے،لہذا امیر محترم عصمت اللہ شاہین بھی ان خوش نصیبوں میں سے ہیں جنہوں نے کافی طویل جہادی جد وجہد کے بعدبالآخر اس عظیم سعادت کو حاصل کر ہی لیا ۔

تحریک طالبان پاکستان امت مسلمہ کو آپ رحمہ اللہ کی شہادت وسعادت کی مبارکباد پیش کرتے ہیں اور اسلام دشمن قوتوں کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ تحریک طالبان میں شاہین شہید رحمہ اللہ جیسے ہزاروں شاہین تم پر جھپٹنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں،ہم انکے جہادی مشن کو شہید قائدین کی وصیت کے مطابق پوری قوت کے ساتھ جاری وساری رکھیں گے ۔انشاءاللہ

شاہین شہید رحمہ اللہ کی شہادت پاکستانی خفیہ اداروں کی کارستانی ہےجو ایسے ہتھکنڈوں کے ذریعے تحریک طالبان کو بڑے نقصان سے دوچار کرنا چاہتی ہے،مگر الحمدللہ ہم تحریک کے مجاہدین کے ساتھ پیش آنے والے ہر واقعے کو تنقیدی نگاہ سے دیکھتے ہیں اورہرگز دشمن کے حربوں سے غافل نہیں ہیں۔

سی آئی اے اور آئی ایس آئی کی شاطر دماغوں کی طرف سے ڈرون کے متبادل کے طور پر شروع کیے جانے والے اس خطرناک پروگرام پر ہماری پوری نظر ہے، انکے خفیہ ایجنٹوں کو جلد پکڑ کر نشان عبرت بنا دیں گے اور ان کی مذموم سازشوں کو اللہ کے فضل سے ناکام بنائیں گے۔انشاءاللہ

امت مسلمہ کو ایسے ابطال پر فخر ہے جو بے سرو سامانی کی حالت میں وقت کے طاغوتوں کے ساتھ ٹکراتے رہے اور الحمدللہ انکو سرنگوں ہونے پر مجبور کرتے رہے،آپ نے اسلام اور مسلمانوں کے لئے جو بے مثال قربانیاں پیش کی ہیں وہ الحمدللہ اسلام کی بالادستی کی بنیادیں بنا چکی ہیں ،امت کے نوجوانوں کو آپ رحمہ اللہ کی شہادت ایک عظیم جدوجہد کا واضح درس دے رہی ہے۔۔

شاہد اللہ شاہد
مرکزی ترجمان تحریک طالبان

الخميس 05 جمادى الأولى 1435 هـ
06/03/2014

الله أكبر

{وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لا يَعْلَمُونَ}

مؤسسة عمر للإعلام
ادارہ عمر برائے نشرواشاعت

حركة طالبان باكستان
تحریکِ طالبان پاکستان

المصدر : (مركز صدى الجهاد للإعلام)
مآخذ : (صدى الجہاد میڈیا سینٹر)

الجبهة الإعلامية الإسلامية العالمية
عالمی اسلامی میڈیا محاذ

رَصدٌ لأخبَار المُجَاهدِين وَ تَحرِيضٌ للمُؤمِنين
مجاہدین کی خبروں کی مانیٹرنگ کرنا اورمؤمنین کو ترغیب دلان

_____________

Source: https://alfidaa.info/vb/showthread.php?t=95339

To inquire about a translation for this statement for a fee email: azelin@jihadology.net

‘Umar Studio presents a new statement from the Teḥrīk-ī-Ṭālibān Pākistān: “On the Truce For One Month With the Pakistani Government In Response to An Appeal By the Distinguished ‘Ulamā’”

Lnqj1

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

تحریک طالبان پاکستان نے نیک مقاصد اور سنجیدگی کے ساتھ حکومت کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا ہے،ہم ایک اصولی جماعت ہیں، ہر فیصلہ شوری کے اتفاق اور امیر محترم کی تائید کے ساتھ طے کرتے ہیں، مذاکراتی عمل میں پیدا شدہ ڈیڈلاک کے خاتمے اور جنگ بندی کے لئے ہماری طرف سے اپنی مذاکراتی کمیٹی کو دیے گئے تجاویز کا حکومت کی طرف سے مثبت جواب دیا گیا ہےاوران تجاویز پر عملدر آمد کی پر اعتماد یقین دہانی کرائی جاچکی ہے۔لہذا تحریک طالبان پاکستان ملک کے اکابر علماء کرام کی اپیل ، طالبان کمیٹی کے احترام اور اسلام اور ملک کے بہتر مفاد میں ایک مہینے کے لئے جنگ بندی کا اعلان کرتی ہے،تحریک طالبان کی اعلی قیادت کی طرف سے اپنے تمام حلقہ جات اور مجموعات کو ہدایت جاری کی جاتی ہے کہ تحریک طالبان کی طرف سے حکومت کے ساتھ جنگ بندی کے اعلامیے کا احترام کرتے ہوئے اس کی مکمل پاسداری کریں اور اس دوران ہر قسم کی جہادی کاروائیوں سے گریز کریں ۔

ہم امید رکھتے ہیں کہ حکومت ہمارےاس فیصلے پر سنجیدگی سے غور کرے گی اور مذاکراتی عمل کو ہر قسم کی سیاست سے دور رکھ کر اس معاملے میں مثبت پیش رفت کرے گی۔

شاہد اللہ شاہد
مرکزی ترجمان تحریک طالبان



الاربعاء 04 جمادى الأولى 1435 هـ
05/03/2014
الله أكبر

{وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لا يَعْلَمُونَ}

مؤسسة عمر للإعلام
ادارہ عمر برائے نشرواشاعت

حركة طالبان باكستان
تحریکِ طالبان پاکستان

المصدر : (مركز صدى الجهاد للإعلام)
مآخذ : (صدى الجہاد میڈیا سینٹر)

الجبهة الإعلامية الإسلامية العالمية
عالمی اسلامی میڈیا محاذ

رَصدٌ لأخبَار المُجَاهدِين وَ تَحرِيضٌ للمُؤمِنين
مجاہدین کی خبروں کی مانیٹرنگ کرنا اورمؤمنین کو ترغیب دلان

___________

Source: https://alfidaa.info/vb/showthread.php?t=95270

To inquire about a translation for this statement for a fee email: azelin@jihadology.net

‘Umar Studio presents a new statement from the Teḥrīk-ī-Ṭālibān Pākistān: “Explanation About the Truce, It Has By Agreement of the Shūrā Council and All of the Groups of the Movement Are Committed To It”

Lnqj1

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

تحریک طالبان پاکستان نے جنگ بندی کا اعلان شوری کے اتفاق اور امیر محترم کی مکمل تائید کے ساتھ کیا ہے.تحریک طالبان کا کوئی حلقہ یا مجموعہ امیر محترم کے حکم اور تحریک کی پالیسی کی مخالفت نہیں کرسکتا ہے۔

ہم شریعت کے پابند ہیں اور شریعت کے لئے جد وجہد کررہے ہیں،جنگ بندی کے اعلان کے بعد اسکی خلاف ورزی کو غیر شرعی اور ناجائز سمجھتے ہیں.

جنگ بندی کے فیصلے کے بعد ملک بھر میں موجود اپنے تمام ساتھیوں کو جنگ بندی کی مدت کے دوران ہر قسم کی عسکری کاروائیاں روکنے کا حکم جاری کر چکے ہیں.

اس دوران ہونے والے کسی واقعے سے ہماراکوئی تعلق نہیں ہوگا.

اسلام آباد میں پیش آنے والےواقعے سے تحریک طالبان کا کوئی تعلق نہیں ہےاور نہ ہی ہمارا کوئی ساتھی اس کاروائی میں ملوث ہے۔

اسلام اورملک دشمن عناصر تحریک طالبان کے واضح اعلان کے باوجود پروپیگنڈے کی سیاست کرنے میں مصروف ہیں اور پاکستان کا میڈیا بھی اس معاملے میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کررہا ہے.

ان واقعات کے پیچھے موجود ہاتھوں کو تلاش کرنا ہماری ذمہ داری نہیں ہے.بالفرض ہمارے کسی مجموعےکے ملوث ہونے کے ثبوت مل جائیں تو لا محالہ ان سے امیر محترم کے حکم اورتحریک کی پالیسی کی مخالفت پر ضرور بازپرس کریں گے۔

شاہد اللہ شاہد
مرکزی ترجمان تحریک طالبان



الثلاثاء 03 جمادى الأولى 1435 هـ
04/03/2014
الله أكبر

{وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لا يَعْلَمُونَ}

مؤسسة عمر للإعلام
ادارہ عمر برائے نشرواشاعت

حركة طالبان باكستان
تحریکِ طالبان پاکستان

المصدر : (مركز صدى الجهاد للإعلام)
مآخذ : (صدى الجہاد میڈیا سینٹر)

الجبهة الإعلامية الإسلامية العالمية
عالمی اسلامی میڈیا محاذ

رَصدٌ لأخبَار المُجَاهدِين وَ تَحرِيضٌ للمُؤمِنين
مجاہدین کی خبروں کی مانیٹرنگ کرنا اورمؤمنین کو ترغیب دلان

___________

Source: https://alfidaa.info/vb/showthread.php?t=95259

To inquire about a translation for this statement for a fee email: azelin@jihadology.net

‘Umar Studio presents a new statement from the Teḥrīk-ī-Ṭālibān Pākistān: “To the Pakistani Media To Focus On the Real Reasons For the War Instead of Numbers and Statistics”

Lnqj1


بسم اللہ الرحمن الرحیم
 

میڈیا پر پاکستان میں جاری کاروائیوں کے اعداد وشمار بڑے شد ومد کے ساتھ پیش کیے جارہے ہیں اور پاکستانی ہوشیار اور دانا میڈیا ان کاروائیوں کی روک تھام کے لئے نت نئے مشورے تراشنے میں مصروف ہے کہ اب کی بار یہ تدبیر اختیار کی جائے،فلاں ایسا کرتا تو یہ مسئلہ یوں قابو ہوجاتا۔۔۔وغیرہاعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کاروائیوں کا آغاز ۲۰۰۱ء کے بعد ہوا ،سال ۲۰۰۴ءتک اس میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آیا ۲۰۰۷ء کے بعد ان کاروائیوں میں واضح طور پر اضافہ ہوا اور یہ مسئلہ ایک چیلنج کی شکل اختیار کرگیا۔۔۔۔۔اور اب ۲۰۱۳ ،۲۰۱۴ ءمیں یہ کاروائیاں پورےعروج پر پہنچ چکی ہیں،صورتحال یہ ہے کہ پاکستان بدامنی کی کاروائیوں میں عراق اور افغانستان جیسے ملکوں سے بھی بازی لے گیا ہےاوردنیا میں پہلی نمبر پر آگیا ہے۔۔۔۔

اس صورتحال سے کیسے نکلا جاسکتا ہے۔۔۔؟؟

ایک بھرپور فوجی آپریشن کیا جائے۔۔۔؟ سخت ترین قوانین بنائے جائیں ۔۔۔۔؟قومی سلامتی پالیسی بنائی جائے۔۔۔؟سریع الحرکت (ایس ایس جی سے بھی تیز اور پھرتیلی)فورس تشکیل دیجائے۔۔۔؟مدارس دہشتگردوں کی نرسریاں ہیں ، ان پر پابندی لگائی جائے۔۔۔؟

پاکستان میں ویسے ہی بزرجمہروں کی کوئی کمی نہیں ہے،پھر ایسے اعداد وشمار دیکھ کر ہر سیکولر کا دماغ چلنا شروع ہو جاتا ہے۔۔۔۔اور اس کے دماغ میں اسلام پسندوں کو مٹانے کے نت نئے حربے ابھرنا شروع ہو جاتے ہیں۔۔۔۔۔اس سے قطع نظر کہ یہ حربہ قابل عمل بھی ہے کہ یا نہیں وہ اس کو بڑی ڈھٹائی سے بیان کرتے اور اس پر عمل کرنے پر زور دیتے رہتے ہیں۔۔۔۔۔

جناب الطاف حسین اس پورےمعاملے کی ایک اعلی مثال ہیں۔۔۔ہر صبح شیطان اس کو علماء اور مجاہدین کے خلاف ایک نیا اقدام یاد دلاتا ہے اور وہ لندن سے آن لائن اپنے نادان کارکنوں کو وہ سبق ازبرکراتا رہتا ہے ۔۔۔ہمارے ملک کی میڈیا بھی ایسے ڈھکوسلوں کوارسطو کے فلسفے سے بڑھ کر اہمیت دیتا ہے تو ان کی ہمت اور بھی بندھ جاتی ہے کہ شاید اصل نسخہ وہی ہے جو میں تجویز کرر ہا ہوں۔۔۔۔

کیا ان اقدامات سے یہ مسئلہ کنٹرول ہو جا ئیگا۔۔۔؟؟کیا ایسا کوئی قدم پہلی بار اٹھا یا جائیگا۔۔۔؟؟مریض عشق پر رحمت خدا کی * مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔۔۔۔۔ان اقدامات میں سے شاید ہی کوئی ایسا ہو جو نہ آزمایا گیا ہو ۔۔۔سخت ترین فوجی آپریشنز، ملک بھر سے اندھا دھند گرفتاریاں ،مدارس کی رجسٹریشن۔۔انسداد دہشتگردی عدالتوں کا قیام اور فورتھ شیڈول جیسے کالے قوانین سمیت وہ کونسے اقدامات ہیں جو ان کاروائیوں کی روک تھام کے لئے نہ اٹھا ئے گئے ہوں۔۔۔لیکن کاروائیوں کی شرح میں روز افزوں اضافہ ہی ریکارڈ کیا جارہا ہے۔۔۔

آخر یہ کاروائیاں کیسے تھم جائیں گی۔۔۔؟ وہ کونسا آپشن ہے جسے ابھی تک نہیں اپنا یا گیا۔۔۔۔؟

اس ملک کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس پر ہمیشہ انہی لو گوں کا تسلط رہا جن کو مغرب کی آشیر باد حاصل رہی ۔۔۔امریکہ اور مغربی آقاؤں کی ہر خواہش پر انہوں نے اسلام اور ملک کے مفاد ات کو قربان کرنےمیں ذرا تامل نہیں کیا ۔۔۔

۲۰۰۱ ء میں جب امریکہ امارت اسلامی افغانستان پر حملہ آور ہوا تب ہمارے نامور جرنیل انکے آگے ڈھیر ہوئے۔۔۔اور ایک خالص اسلامی حکومت کے خلاف بغیر کسی وجہ کے امریکہ اور نیٹو اتحاد کے ساتھی بنے اور امارت اسلامی کو ملیامیٹ کر دیا،بات یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ ہزاروں عرب مہاجرین اور افغانوں کو ان بدبختوں نے پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیا ۔۔۔مہاجرین امریکی حملے سے محفوظ پناہ گاہ کی تلاش میں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں داخل ہوئے۔۔۔انہوں نے انکے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا ،ہزاروں لوگ شہید کر دیے گئے،بے شمار گرفتار ہو کر آئی ایس آئی کی سیلوں میں ہمیشہ کے لئے گم ہو گئے۔۔۔لاکھوں بے گھر اور بے آسرا ہو گئے۔۔۔۔مرتے کیا نہ کرتے غیور قبائل پاکستانی ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہو گئے۔۔۔اور پاکستان میں اپنی بقا اور اسلام کی دفاع کا جنگ شروع کر دیا ۔۔۔یہاں سے اس جنگ کا آغاز ہوا۔۔۔۔

چونکہ اس جنگ کی بنیادی وجہ امارت اسلامی کے خلاف امریکہ کی کھلی حمایت اور امریکی جنگ میں ریاست کی مکمل معاونت اور شرکت تھی۔۔۔لہذا ملک میں وقفے وقفے سے عرب مجاہدین کی گرفتاری اور بہت سے مقامات پر انکی مظلومانہ شہادت کے واقعات اس جنگ کو ایندھن فراہم کرتے رہے۔۔۔انتقام کے جذبے سے سرشارہونہار اس میں بھرپور کردارادا کرنے لگے۔۔۔ ؁۲۰۰۳،۲۰۰۴ ؁تک اس مبارک جنگ نے قوت پکڑلی۔۔۔ناعاقبت اندیش فوجی جرنیلوں کے سخت فوجی آپریشن کے فیصلوں نے اس جنگ کو بھر پور فائدہ پہونچایا۔۔۔کیونکہ مجاہدین قبائل کو یہ بات سمجھانے میں باآسانی کامیاب ہو گئے کہ یہ فوج مسلمانوں کی دشمن اورامریکہ کی وفادار اور کرایہ دار ہے۔۔۔۔اوروہ جنگ جو وانا جنوبی وزیرستان تک محدود تھی بڑھتی ہوئی سات ایجنسیوں میں پھیل گئی۔۔۔

ء۲۰۰۵،۲۰۰۶ ءمیں وانا اور باجوڑ وغیرہ میں امریکی ڈرون حملوں کو اپنے حملے قرار دینے کی پالیسی نےمجاہدین کی عوامی حمایت میں زبردست اضافہ کیا اور پاکستان کی اسلام پسند عوام پر حکومت کی اسلام دشمنی کھل کر واضح ہو گئی۔۔۔

۲۰۰۷ءمیں لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں معصوم طلبہ اور طالبات کے خلاف پاکستانی ریاست کے ظالمانہ آپریشن نے اس جنگ کو ملک کے طول و عرض میں پھیلادیا۔۔۔وہ جنگ جو ابھی تک صرف قبائل میں دفاع کی حد تک لڑی جارہی تھی اس کو نفاذ شریعت کاعالی اور پاکیزہ نظریہ فراہم ہوا۔۔۔پاکستان کے مسلمان اچھی طرح جان گئے کہ اصل مسئلہ امریکہ کی دوستی سے بھی بڑھ کر وہ نظام ہےجو ہمارے اوپر قیام پاکستان کے وقت سے ہی مسلط کر دیا گیا ہے۔۔۔اور اب وہ شریعت یا شہادت کے جذبے سے سرشار ہو کر لڑنے لگے۔۔۔نظریاتی بنیادوں پر لڑی جانے والی جنگ بہت مؤثر ثابت ہوئی۔۔ کیونکہ اس کو پاکستان میں ہر علاقے اور ہر طبقے کے لوگوں میں مقبولیت مل گئی ۔۔۔وہ لوگ بھی اس جنگ میں شامل ہو گئے جن کو اس جنگ میں بظاہر کوئی نقصان نہیں پہونچا تھا۔۔۔۔

اور اب الحمد للہ پاکستان کے طول و عرض میں پاکستانی مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد نظریاتی طور پر تحریک طالبان سے منسلک ہو چکی ہے۔۔۔اور اس میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہو رہا ہے۔۔۔نتیجتاً سال ء۲۰۱۳، ۲۰۱۴ء میں مجاہدین کی کاروائیوں کی صلاحیت میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔۔۔

ہم سمجھتے ہیں کہ اگر اس ملک کے حکمران ان کاروائیوں کی روک تھام میں مخلص ہے۔۔۔تو اس کو اس جنگ کے بنیادی اسبا ب پر توجہ دینا ہو گا ، جب تک ان اسباب کا خاتمہ نہیں ہو گا اورلندن میں بیٹھے الطاف حسین جیسے سیانوں کے مشوروں پر عمل ہوتا رہے گا تو اس جنگ میں روز بروز اضافہ تو ہوگا۔۔۔ لیکن اس میں کسی قسم کی کمی دیوانے کا خواب ہی ثابت ہوتا رہے گا۔۔۔۔

اس جنگ کے بنیادی اسباب:

- امریکہ اور نیٹو کا فرنٹ لائن اتحادی بننا

- امارت اسلامی کے سقوط میں بھر پور کردار ادا کرنا

- چند ڈالروں کے عوض عرب مجاہدین کی بہت بڑی تعداد میں گرفتاری اور امریکہ کو حوالگی

- اپنے ہی ملک کے غیرت مند مسلمانوں کے خلاف بد ترین فوجی آپریشنز

- ملک کے طول و عرض میں مجاہدین کی آڑ میں بےگناہ لوگوں کی بے دریغ گرفتاریاں

- لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف پوری ریاستی قوت کا استعمال

- گرفتار ساتھیوں کی مسلسل مسخ شدہ لاشیں پھینکنا

- دہشت گردی کے نام پر مدارس اور دین دار طبقے کے خلاف شر انگیز میڈیا مہم

- اسلام دشمن عناصر کو کھلی چھٹی دینا کہ وہ جو چاہیں کہتے اور کرتے پھریں

- ملک کے ایوانوں سمیت ہر سطح پر اسلام اور شریعت کا کھلا مذاق

یہ وہ چیدہ چیدہ اسباب ہیں جن کو کوئی بھی عقلمند انسان باآسانی سمجھ سکتا ہے کہ انہی وجوہات کی بنا پر یہ جنگ آگ کی طرح پھیلتی چلی گئی اور زور دار کاروائیاں ہیں کہ ہر نئے اقدام کو بے کار کئے دیتی ہیں۔۔۔لہذا ہم پاکستان کے حکمرانوں اور پاکستانی میڈیا سے یہ عرض کرتےہیں کہ اعداد و شمار ضرور جمع کریں لیکن اس کے ساتھ ہی ان اسباب کو بیان کرنے میں بخل نہ کریں جوان کاروائیوں کا اصل سبب ہیں، اگر ان اسباب کے خاتمے کی طرف توجہ دی جائے تو ان کاروائیوں کی شرح میں حیرت انگیز کمی واقع ہو سکتی ہے۔۔۔جہاں تک فوجی آپریشن کی بات ہے تو ہم اس کے شاندار نتیجے کے لئےتیار بیٹھے ہیں۔
ہمیں پورا یقین ہے کہ اس آپریشن میں طالبان مجاہدین کا نقصان نہایت کم اور قبائلی بے گناہ عوام کا بے پناہ نقصان ہو گا۔۔یہ نقصان جن لوگوں کے ہاتھوں ہوگا وہ اس خوش فہمی میں پھر ہرگز نہ رہیں کہ غیور قبائل آپ کو جواب میں پھولوں کا ہار پہنائیں گے۔۔۔۔۔

شاہد اللہ شاہد
مرکزی ترجمان تحریک طالبان



الجمعة 28 ربيع الثاني 1435 هـ
28/02/2014
الله أكبر

{وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لا يَعْلَمُونَ}

مؤسسة عمر للإعلام
ادارہ عمر برائے نشرواشاعت

حركة طالبان باكستان
تحریکِ طالبان پاکستان

المصدر : (مركز صدى الجهاد للإعلام)
مآخذ : (صدى الجہاد میڈیا سینٹر)

الجبهة الإعلامية الإسلامية العالمية
عالمی اسلامی میڈیا محاذ

رَصدٌ لأخبَار المُجَاهدِين وَ تَحرِيضٌ للمُؤمِنين
مجاہدین کی خبروں کی مانیٹرنگ کرنا اورمؤمنین کو ترغیب دلان

 

__________

Source: https://alfidaa.info/vb/showthread.php?t=94905

To inquire about a translation for this statement for a fee email: azelin@jihadology.net

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 3,738 other followers

%d bloggers like this: