‘Umar Studio presents a new statement from the Teḥrīk-ī-Ṭālibān Pākistān: "Mawlānā Samī’a’s Correct Decision to Abandon Negotiations Between the Ṭālibān and the Pakistani Regime Due to the Hypocrisy of the Government’s Position In Supporting the Ṭālibān"

Lnqj1

بسم الله الرحمن الرحيم

تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات سے متعلق اے پی سی کے انعقاد کے بعد حکومت نے مذاکرات سے متعلق پرزور بیانات کاسلسلہ جاری رکھااور عملا مذاکرات شروع کرنے سے مکمل اجتناب برتا گیا، عوام کو دھو کا دینے کے لئے علماءکرام کو متحرک کرنے کا ڈھنڈورا پیٹا گیا اور ان سے منسوب ایک بیان بھی جاری کروایا گیا( اس بیان کی حقیقت کیا تھی ؟ہم ا چھی طرح اس سے آگاہ ہیں)، اسی دوران مسلسل طالبان کی سخت شرائط کا پروپیگنڈہ بھی کیا گیا ۔
ابھی کچھ عرصے سے پھر حکومتی وزرا تحریک طالبان کے بارے میں پورے شد ومد سے مذاکرات سے انکار کا پروپیگنڈہ کر رہے ہیں،جبکہ تحریک طالبان کا اس حوالے سے موقف شروع دن سے ہی نہایت واضح ہے کہ ہم مذاکرات کے لئے تیار ہیں لیکن حکومت اپنا اختیار اور اخلاص ثابت کرے ۔

ماضی کے ناکام معاہدوں کی بنیادی وجہ حکومتوں کا بے اختیار اور اور غیر سنجیدہ ہونا ہی تھا، ہم اس حکومت کا بھی اصل اختیار انہی ہاتھوں میں سمجھتے ہیں جنہوں نے پورے ملک کو ایک فون کال پر ڈھیر ہو کر امریکہ کے حوالے کیا تھا،جنہوں نے لال مسجد کو معصوم طالبات کے خون سے رنگین کیااور سوات ووزیرستان سمیت ملک بھر میں اسلام سے محبت رکھنے والوں کو آتش وآہن کی سزا دی۔

اگر حکومت مخلص اور با اختیار ہوتی تو عین مذاکراتی عمل کے دوران مولانا ولی الرحمن اور امیر محترم حکیم اللہ مسعودرحمھما اللہ کی شہادتوں کے واقعات کبھی پیش نہ آتے، بات در اصل یہ ہے کہ اس ملک میں ہمیشہ نادیدہ قوتوں کی حکمرانی رہی ہے ،جو کبھی اسلام اورملک کے وفادار نہیں رہے، ملک کے منتخب حکمران بھی دراصل انہی کے اشارۂ ابرو کے غلام ہوتے ہیں،لہذا ہونا وہی ہوتا ہے جو وہ چاہتے ہیں۔

مولانا سمیع الحق صاحب کو اس عمل میں شریک کرنے کا مقصد بھی ایک سیاسی حربے سے بڑھ کر اور کچھ بھی نہیں تھا،حقیقت حال سے اچھی طرح واقف ہونے کے باوجود مولانا کے نمائندوں کو ہم نے مثبت جواب دیا ،جبکہ ہونا وہی تھا جو طے شدہ تھا ،مولانا کواپنے رابطوں پراس وقت سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑاجب ملاقات تو درکنار” مذاکرات کے زبردست حامی“چوہدری نثار صاحب سے فون پر بات کرنے کے لئے بھی انہیں مشکلات پیش آنے لگیں، بالآخر انہوں نے اس دھوکے اور سیاسی حربے والے مذاکرات کی حقیقت کا ادراک کر لیا اور اس عمل سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا۔

مولانا کے اقدام سے تحریک طالبان کے موقف کی تصدیق ہوتی ہے ، کہ مولانا صاحب نے با لکل وہی باتیں کی ہیں جو ہم ہمیشہ سے کہہ رہے ہیں کہ حکومت سنجیدہ اور مخلص نہیں ہے ، ورنہ مولانا کو تو خود انہوں نے رابطے کا ٹاسک دیا تھا۔۔۔۔؟؟

ہم پاکستان کے مسلمانوں پر یہ بات واضح کرنا چاہتے ہیں کہ تحریک طالبان نے کبھی سنجیدہ اور بامقصد مذاکرات سے انکار نہیں کیالیکن یہ منافق حکمران مذاکرات کے نام پر آپکی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں ،اور لال مسجد و سوات آپریشن کی طرح ایک بار پھر شریعت کے متوالوں پر جنگ مسلط کرنا چاہتے ہیں، تحریک طالبان کی طرف سے دو ٹوک موقف سامنے آنے کے باوجود یہ بات چیت سے کنی کترا کر امریکہ اور جرنیلوں کی منشا پوری کرنے کی راہ اپنا رہے ہیں اور انہوں نے بے گناہ لوگوں کے قتل عام کا سلسلہ شروع کر چکے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس ملک کے عوام مزید کسی تباہ کن جنگ کو سہنے کے ہرگز متحمل نہیں ہیں،قبائلی عوام پر مسلط کی جانے والی اس جنگ کا نتیجہ ایک اور مشرقی پاکستان کے سانحے کی شکل میں رونما ہو سکتا ہے ،آج جنگ تو تم اپنی مرضی سے شروع کر لو گے لیکن کل ہم سے اس کے خاتمے کی بھیک مت مانگنا!!

شاہد اللہ شاہد
مرکزی ترجمان تحریک طالبان پاکستان

24/03/1435
25/01/2014

الله أكبر

{وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لا يَعْلَمُونَ}

مؤسسة عمر للإعلام
ادارہ عمر برائے نشرواشاعت
حركة طالبان باكستان
تحریکِ طالبان پاکستان
المصدر : (مركز صدى الجهاد للإعلام)
مآخذ : (صدى الجہاد میڈیا سینٹر)
الجبهة الإعلامية الإسلامية العالمية
عالمی اسلامی میڈیا محاذ
رَصدٌ لأخبَار المُجَاهدِين وَ تَحرِيضٌ للمُؤمِنين
مجاہدین کی خبروں کی مانیٹرنگ کرنا اورمؤمنین کو ترغیب دلانا

__________

To inquire about a translation for this statement for a fee email: [email protected]